بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو قانونی جنگ جاری ہے اسے آگے بڑھاتے ہوئے ریاستی حکومت نے اگر کیوریٹوعرضی دائر کی تو مرکزی حکومت کرناٹک کو قانونی مدد دینے تیار ہے۔ یہ اعلان آج مرکزی وزیر برائے آبی وسائل اوما بھارتی نے کیا۔ سپریم کورٹ میں کاویری تنازعہ کے سلسلے میں کرناٹک سے ناانصافی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے کیوریٹو عرضی دائر کرنے کی تیاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے قانونی مدد طلب کی تو مرکز کی طرف سے یہ جواب ملا۔ آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے دہلی میں مرکزی حکومت کی مداخلت پر زور دینے کیلئے اوما بھارتی سے تبادلہئ خیال کیا۔ بتایاجاتاہے کہ ملاقات سے پہلے ہی اوما بھارتی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو یہ یقین دہانی مل گئی کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت کرناٹک کے ساتھ رہے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے کاویری آبی نگرانی بورڈ قائم کرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی بھرپور مخالفت کی ہے اور بتایاکہ اس معاملے میں حکومت کی طرف سے دائر ایک خصوصی لیو پٹیشن کی سماعت سپریم کورٹ میں باقی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ اب تک تملناڈو کو کاویری سے 1.28 لاکھ کیوسک پانی بہایا جاچکا ہے، جوکہ مقررہ مقدار سے 18/ ہزار کیوسک زیادہ ہے۔ کیوریٹو عرضی میں اگر عدالت کو اس حقیقت سے باور کرایا جائے تو ممکن ہے کہ کرناٹک کے ساتھ انصاف ہوجائے۔ سپریم کورٹ میں کاویری مسئلے پر اگلی سماعت 18/ اکتوبر کو ہونے والی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی جسٹس ادے للت اور دیپک مشرا کی طرف سے کاویری نگرانی بورڈ قائم کرنے کے بارے میں جو حکم سنایا گیا ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اوما بھارتی کو بتایاکہ کل ریاستی لیجسلیچر کا ایک خصوصی اجلاس طلب کیاگیاہے، جس میں کاویری مسئلے پر اتفاق رائے سے قرار داد منظور کی جائے گی اور بعد میں یہ قرار داد مداخلت پر زور دیتے ہوئے مرکز کو روانہ کردی جائے گی۔